Asymptomatic

Mild 

Moderate

Severe 

Critical


اس میں Asymptomatic  , mild اور moderate کیسز کی شرح تقریبا 80% , Severe کیسز کی شرح تقریبا 15 % اور critical کیسز کی شرح تقریبا 5 % ہے ۔


تو اگر خوش قسمتی سے آپ کا تعلق 80 % افراد والے گروپ سے ہے تو عموما آپ کو کسی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ صرف symptomatic  ٹریٹمنٹ ہی دی جاتی ہے ۔

مثلا مجھے کووڈ ہوا تھا اور میں نے محض پیناڈول کے علاوہ کچھ استعمال نہیں  کیا ، لیکن کیا میں یہ ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دوں کہ پیناڈول ہی حتمی شافی کافی علاج ہے تو کیا یہ عقلمندی ہو گئی 🤔


مسئلہ ان 20 % severe & critical کیسز کا ہی ہے جن کے لواحقین یا مریض ،ایسی الٹی سیدھی باتوں سے ڈی ٹریک ہوتے یا کنفیوژ ہوں اور دستیاب مطلوبہ علاج کے بجائے ٹوٹکوں پر انحصار کر بیٹھیں ۔ یا پھر یہ کہ عوام تشخیص کروانے سے ہی اجتناب کریں اور وباء کو ہی غیر سنجیدہ لیں اور غیر سنجیدہ ٹوٹکوں سے اسکے علاج کی کوشش کریں ۔


گزارش یہی ہے کہ اگر آپ کو علامات ہیں یا کسی مریض سے contact رہا تو پہلی فرصت میں تشخیص کی کوشش کریں ۔

تشخیص کے بعد بیماری کی شدت کو جاننے کی کوشش کریں ، 

آکسیجن سیچوریشن ، سانس کی رفتار ، ایکسریز ، HRCT چند بنیادی علامات یا ٹیسٹس ہیں کہ جن کی بنیاد پر آپ بیماری کی شدت کو بتا سکتے ہیں اور اگر آپ آکسیجن کی کمی کا شکار ہیں اور اپنا یا اپنے عزیزوں کا ٹوٹکوں سے ہی علاج کرنا چاہتے ہوں تو ظاہر ہے نقصان ہی اٹھائیں گے ۔


چسکے دار ٹوٹکے شئیر کرنے اور اپنے ذاتی تجربات شئیر کرنے والے فلاسفروں ، ڈاکٹروں ، علماء ، صحافیوں ، اساتذہ اور دیگر قابل احترام لوگوں سے استدعا ہے کہ عوام کے حال پر رحم کریں اور محض چند لائیکس ، شئیرز کی خاطر یا اپنی سازشی ذہنیت کی تسکین کی خاطر کسی کی زندگی خطرے میں نہ ڈالیں